ابنا: گزشتہ پندرہ دنوں میں یہ چوتھا ایسا واقعہ ہے جس میں لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے نئی حکمت عملی کے تحت اجتماعی شہادتیں کی ہیں اور ان چار واقعات میں اڑتالیس افراد کو شہید کر دیا گیا ہے۔بلوچسان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات سنہ انیس سو ننانوے سے شروع ہوئے، اس سے پہلے صوبہ بلوچستان میں اس طرح کے واقعات کبھی پیش نہیں آئے تھے۔ان واقعات میں مزید شدت سنہ دو ہزار تین میں اس وقت آئی جب یکے بعد دیگرے اجتماعی ہلاکتوں کے واقعات ہوئے۔ اپریل سنہ دو ہزار تین میں مکتب تشیع کے سات افراد کو اس وقت ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ ایک پک اپ میں پود گلی چوک جا رہے تھے۔اس کے بعد آٹھ جون سنہ دو ہزار تین کو سریاب روڈ پر مکتب تشیع سے ہی تعلق رکھنے والے چودہ جوان پولیس کیڈٹس کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔اسی سال چار جولائی کو پرنس روڈ پر امام بارگاہ اثناء عشریہ پر لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ نے اس وقت خودکش حملہ کر دیا جب لوگ جمعہ کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اس واقعے میں پچپن افراد شہید ہوئے تھے جن میں بوڑھے اور بچے بھی شامل تھے۔اتنے بڑے سانحوں کے بعد یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ اگلے سال مارچ سنہ دو ہزار چار میں عاشورہ کے جلوس پر لیاقت بازار میں لشکر جھنگوی نے خودکش حملہ کردیا تھا۔اس حملے کی منصوبہ بندی دیگر حملوں سے اس لیے مختلف تھی کیونکہ اس کے لیے جلوس کے راستے میں ایک عمارت کرائے پر حاصل کی گئی تھی اور پہلے شدید فائرنگ کی گئی، پھر دستی بم پھینکنے کے بعد حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ اس حملے میں ساٹھ افراد شہید ہوئے تھے۔بلوچستان کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس شعیب سڈل نے کوئٹہ میں اخباری کانفرنسز میں بتایا تھا کہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی ملوث ہے جو ان میں سے بیشتر حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔انھوں نے ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ عثمان سیف اللہ ، داؤد بادینی اور چند دیگر افراد کے نام بتائے اور کہا تھا کہ ان حملہ آوروں کا مضبوط گڑھ بلوچستان کا شہر مستونگ ہے۔اس کے بعد عثمان سیف اللہ کو کراچی سے گرفتار کر لیا گیا اور کوئٹہ چھاؤنی جیسے محفوظ علاقے میں قائم انسدادِ دہشت گردی کی جیل میں رکھا گیا تھا۔عثمان سیف اللہ اس جیل سے سنہ دو ہزار آٹھ میں عاشورہ کے جلوس سے تین روز پہلے فرار ہو گیا تھا۔ عثمان سیف اللہ کے فرار کے بارے میں جیل حکام کو صبح اس وقت پتہ چلا جب قیدیوں کی حاضری لی جا رہی تھی جب کہ داؤد بادینی کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ گرفتار ہے اور مچھ جیل میں ہے۔............/169
4 اکتوبر 2011 - 20:30
News ID: 270009
صوبہ بلوچستان میں شیعہ افراد کو ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اطلاعات کے مطابق گزشتہ گیارہ سالوں میں اب تک چھ سو افراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔